Dr Muhammad Mushtaq Khan

استور حلقہ 2سے سینکڑوں افراد جماعت اسلامی میں شامل ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے حلف لیا

ڈاکٹر محمد مشتاق کی استور میں شیعہ اور سنی علماء کرام سے الگ الگ  اہم ملاقاتیں 
گلگت بلتستان بدل رہاہے بڑی تعداد میں عوام جماعت اسلامی میں شامل ہورہے ہیں،روایتی پارٹیوں اور قیادتوں نے عوام کو دھوکہ دیا 
استور:جماعت اسلامی آزاد کشمیرگلگت بلتستان کے امیر ڈاکٹر محمد مشتاق خا ن نے کہاہے کہ دیامر ڈیم کی رائلٹی گلگت بلتستا ن کے عوام کا حق اور ملاازمتوں میں مقامی لوگوں کو ترجیح دی جائے،استور کو پسماندہ رکھنے والوں کے احتساب کا دقت آگیاہے،جماعت اسلامی ایک اپوزشین پارٹی ہونے کے باوجود عوام کی خدمت کی شاندار تاریخ رقم کررہی ہے،روایتی پارٹیوں اور قیادتوں نے عوام کو دھوکہ دیاہے،عوامی مسائل کے حل کا حقیقی ایجنڈا جماعت اسلامی کے پاس ہے،جماعت اسلامی گلگت بلتستان کے ہرا نتخابی حلقے سے بھرپورا نداز سے انتخابات میں حصہ لے کر کامیابی حاصل کرے گی،گلگت بلتستان میں صحت تعلیم کانظام بری طرح متاثرہ اور عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں،قومی بجٹ کا زیادہ حصہ کرپشن کی نذرہوجاتاہے،ان خیالات کااظہارانھوں نے اپنے دورہ استور حلقہ 2میں تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر مرکزی نائب امیر مشتاق ا یڈووکیٹ،مرکزی ڈپٹی سیکرٹری مولاناعبدالسمیع،امیر جی بی مولانا تنویر حیدری،نعمت ا للہ خان،مولانا عبدالباسط،کفالیت دین سمیت دیگر قائدین نے خطا ب کیا،اپنے دورے کے دوران میں ڈاکٹر محمد مشتاق کی استور میں شیعہ اور سنی علماء کرام سے اہم م ملاقاتیں استور حلقہ 2سے سینکڑوں افراد جماعت اسلامی میں شامل ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے حلف لیا،تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد مشتاق خا ن نے کہاکہ حلقہ 2استور مسائلستان بنا ہوا ہے،جماعت اسلامی یہاں کے مسائل کرے گی بنوقابل پروگرام کے تحت استور سے 6ہزار نوجوانوں کو ہنرمند بناکر باعزت روزگار کے قابل بنائیں گے،استور میں جدید سہولیات سے لیس ہسپتال قائم کریں گے،خواتین اورنوجوانوں کے لیے الگ الگ پروگرامات ترتیب دیں گے۔انھوں نے کہاکہ گلگت بلتستان قدرتی وسائل سے مالامال ہے مگر نااہل قیادت ان وسائل کو بروئے کارنہیں لارہی ہے،انھوں نے مطالبہ کیاکہ دیامر ڈیم کو جلد مکمل کیاجائے اور یہاں پر ملاز متوں میں مقامی ہوگوں کو ترجیحی دی جائے ڈیم کی رائلٹی جی بی کو دی جائے،انھوں نے کہاکہ گلگت بلتستان کو لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات دی جائے۔

مرکزی دفتر

رابطہ دفتر