تازہ خبریں

library

Islamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic Library
 
spinner

کل جماعتی کشمیر کانفرنس اور آئندہ کا لائحہ عمل

raja zakir

راجہ ذاکرخان

جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکے زیراہتمام پلوامہ دھماکے اور پاکستان پر بھارت جارحیت کے حوالے سے کل جماعتی کشمیرکانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے،کانفرنس میں صدر ریاست سمیت آزاد کشمیرکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ حریت قیادت نے بھی شرکت کی،کانفرنس میں شریک تمام قائدین نے اتفاق کیاکہ اب مسئلہ کشمیرکوبطور مسئلہ پیش کرنے کی بجائے اس مسئلے کے حل کی طرف توجہ دینی چاہیے،پلوامہ واقع کو بنیادبنا کر نریندمودی نے نہ صرف پاکستان پر جارحیت کی بلکہ مقبوضہ جماعت اسلامی پر پابندی لگادی اور کشمیرکے اندر مظالم بڑھادیے گئے،کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو کچلنے کے لیے تازہ دم فوج بھی بھیج دی گئی۔نریندرمودی نے 8لاکھ فوج کو نہتے کشمیریوں کے سامنے بے بس دیکھاتو مزید فوج بھیج دی اس سے بھارت کا خوف اور کشمیریوں کی فتح آشکار ہوئی۔
پاک فوج نے بھارتی جارحیت کا جس طور جواب دیا اس سے نہ صرف افواج پاکستان کے مورال ہائی ہوئے بلکہ ہندوستان کی سبکی ہوئی اور ہندوستان کے اندر خوف کے سائے منڈلاتے دیکھائی دیے۔بھارتی جنگوں جہازوں کو مارگرانے اور پائلٹوں کو گرفتار کرکے لانے سے یہ ثابت ہوگیا بھارتی جارحیت کا نہ صرف جواب دیاسکتاہے بلکہ قدم آگے بھی برھ سکتے ہیں۔نریندرمودی کے ان اقدامات سے ایک تو مسئلہ کشمیرفلئش پوائنٹ بن کر ابھرا اور دنیا پر ایک بارپھر باور ہواکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ کی بنیاد مسئلہ کشمیرہے اور یہ جنگ صرف 2ممالک کی نہیں بلکہ دوایٹمی طاقتوں کی ہوگی اور جنوبی ایشیا میں چار ایٹمی طاقتیں ہیں ،چار ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ پوری دنیا کے امن کو تباہ کردے گی،اس لیے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے،یہ پیش رفت ہے جو نریندرمودی نے پیدا کی ہے،دوسرا نرمندرمودی جو سپرمیسی کے خواب دیکھ رہے تھے وہ بھی چکناچورہوگئے۔ان امکانات سے استفادہ کرنے کے لیے جماعت اسلامی آزاد کشمیرنے کل جماعتی کشمیرکانفرنس کا نعقاد کیا،مشاورت کے بعد متفقہ علامیہ جاری کیا گیاہے جس میں لکھاگیاہے کہ کل جماعتی کشمیر کانفرنس بھارت کی جانب سے پلوامہ واقعہ کو بنیاد بنا کر سیز فائر لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختون خواہ کے علاقے بالاکوٹ کے نواح میں ہندوستانی فضائیہ کے ناکام حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ کانفرنس کی نظر میں ہندوستان کی یہ جارحیت اقوام متحدہ کے چارٹر ، بین الاقوامی قوانین اور بین الریاستی اقدار کی صریح خلاف ورزی اور پاکستان کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف ہے۔یہ کانفرنس اس جارحیت کے نتیجے میں پاکستانی سر زمین پر جانی و مالی نقصانات کے بلا ثبوت ہندوستانی دعوؤں کو جھوٹ کا پلندہ ، حقائق کے برعکس اور مضحکہ خیز قرار دیتی ہے۔ کانفرنس ہندوستان کی اس جارحیت کو علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتی ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں دو ایٹمی طاقتیں ایٹمی جنگ کے دھانے پر آن پہنچی ہیں۔یہ کانفرنس پاک فضائیہ اور افواج پاکستان کو ہندوستانی جارحیت کا موثر اور دندان شکن جواب دینے پر خراج تحسین پیش کرتی ہے اور یقین دلاتی ہے کہ آزاد جموں وکشمیر ، گلگت بلتستان کے عوام اور مہاجرین جموں وکشمیر مقیم پاکستان ہندوستانی جارحیت کے خلاف پاکستانی افواج کے شانہ بشانہ اور قدم بقدم مستعد اور صف آرا ء ہیں۔
یہ کانفرنس ہندوستانی افواج کی جانب سے ورکنگ باؤنڈری اور سیز فائر لائن پر شہری آبادیوں کو بلا اشتعال اور بلا جواز فائرنگ کا نشانہ بنانے کی مذمت کرتی ہے جس کے نتیجے میں عام شہریوں کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور وہ گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ کانفرنس اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس کا فوری نوٹس لییہ کانفرنس بھارتی حکومت کی طرف سے جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر پر پابندی ،اس کے اداروں اور اثاثہ جات حتیٰ کہ ذمہ داران کے گھروں کی ضبطی اور امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر عبدالحمید فیاض سمیت چار سو سے زائد قائدین اور کارکنان کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر میں جماعت اسلامی کی سیاسی ،تعلیمی، فلاحی و تربیتی میدان میں خدمات اور مسئلہ کشمیر زندہ رکھنے اور نامساعد حالات میں حق خودارادیت کے اصولی موقف کی آبیاری پر اسے خراج تحسین پیش کرتی ہے۔کانفرنس مشترکہ مزاحمتی قیادت کے اہم رہنماؤں کی گرفتاریوں ،بزرگ رہنما اور تحریک آزادی کی علامت سید علی گیلانی، قائدین حریت میرواعظ عمر فاروق ، یاسین ملک ،محمد اشرف صحرائی ،شبیر احمد شاہ ، مسرت عالم ، آسیہ اندرابی اور دیگر قائدین حریت کی مسلسل نظر بندی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ اس کانفرنس کے نزدیک یہ تمام بھارتی ہتھکنڈے اس کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہیں قبل ازیں وہ ہر طرح کی ریاستی دہشت گردی سے تحریک آزادی کو کچلنے میں ناکام ہو چکا ہے ،بلکہ قتل و غارت گری کی اس کی ہر تدبیر اﷲ تعالیٰ نے اس پر پلٹ دی ہے۔یہ اس کی جارحیت کا ہی نتیجہ ہے کہ شہید برہان مظفر وانی اور عادل ڈار جیسے نوخیز اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اپنا تعلیمی مستقبل قربان کرتے ہوئے زندگیاں بھی قربان کرنے کے لیے مجبور ہوئے اور بھارتی فوجی قبضہ کے خلاف مزاحمت اور جہاد کے ہیرو بن گئے۔کانفرنس کو یقین ہے کہ جس قدر ہندوستانی جبر پرامن جدوجہد کا راستہ بند کرے گا ،اسی شدت سے نوجوان زیادہ جوش وخروش سے کاروان حریت کا حصہ بنیں گے اور تحریک کمزور ہونے کے بجائے اس میں مزید طاقت ، توانائی اور جوش پیدا ہو گا، اس لیے یہ کانفرنس بھارتی حکمرانوں اور سیاست دانوں کو یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ طاقت،تشدد اور ریاستی دہشت گردی کے یہ ہتھکنڈے ترک کیے جائیں ،کالے قوانین کو ختم کیا جائے،گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر پر سے پابندی اٹھائی جائے۔یہ کانفرنس مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوستان کی طرف سے ریاستی دہشت گردی اور تشدد کی نئی لہر ،معصوم کشمیریوں کے بے رحمانہ قتل عام اور وادی میں فوج کی تعداد میں اضافے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ دہشت گردی فوری طور پر ختم کی جائے ،مقبوضہ ریاست سے قابض افواج کو واپس بلایا جائے اور انسانی حقوق کی بدترین خلا ف ورزیوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔کانفرنس ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں زیر تعلیم طلبہ اور جیلوں میں قید کشمیری قیدیوں کے ساتھ روا رکھے گئے ہندو جنونیوں کے متشددانہ سلوک کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے ،بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ سے اس جنونی اور انتہا پسندانہ طرز عمل کا نوٹس لینے اور ہندوستانی حکومت کی سرزنش کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔یہ کانفرنس پاکستان کی پارلیمنٹ ، حکومت اور اپوزیشن اور پوری پاکستانی قوم کو ہندوستانی جارحیت کے مقابلے میں مثالی قومی اتحاد ، یکجہتی کا مظاہرہ ، متفقہ موقف اختیار کرنے اور اخوت کی فضا قائم کرنے پر خراج تحسین پیش کرتی ہے اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی واشگاف حمایت پر شکریہ ادا کرتی ہے جس کے نتیجے میں اہل کشمیر کے حوصلے بلند ہوئے اور ہندوستان کو یہ واضح پیغام پہنچا کہ پوری پاکستانی قوم دشمن کے مذموم عزائم کے مقابلے اور اہل کشمیر کی تحریک آزادی کی پشتی بانی کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند متحد اور منظم ہے۔یہ کانفرنس وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل پر مذاکرات کی پیش کش اور گرفتار پائلٹ کی رہائی سمیت امن کے پیغامات کی تحسین کرتی ہے اور نریندر مودی اور ہندوستانی ذرائع ابلاغ کی جانب سے جنگی ماحول اور جنون پروان چڑھانے کے رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور اس بات پر تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ آئندہ انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی اور آر ایس ایس اور دیگر انتہا پسند ہندو تنظیموں کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے علاقائی اور عالمی امن کو خطرے میں ڈالا گیا اور ایٹمی جنگ کے دھانے پر لا کھڑا کیا گیاہے۔
٭ یہ کانفرنس عالمی امن کی داعی طاقتوں اور اداروں بالخصوص اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ہندوستان کے اس جنگی جنون اور پاکستان کے خلاف ننگی جارحیت کا نوٹس لیں اس پر اخلاقی ، سفارتی دباؤ بڑھایا جائے ، ہندوستان کو مجبور کیا جائے کہ وہ کشمیری عوام کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ بند کرے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کی خواہشات اور امنگوں کا احترام کرتے ہوئے ان کا مسلمہ اور بنیادی حق حق خود ارادیت دینے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔
٭ یہ کانفرنس اس امر کو واضح کرنا چاہتی ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوستان کی حیثیت محض قابض اور غاصب کی ہے جس کے خلاف مختلف محاذوں پر کشمیریوں کی تحریک مزاحمت اقوام متحدہ کے چارٹر اور مسلمہ بین الاقوامی اصولوں کے تحت معروف اور جائز تحریک آزادی ہے جس کو دہشت گردی سے جوڑنا بلا جواز بلکہ مضحکہ خیز ہے۔ اگروہاں کوئی دہشت گرد ی ہے تو وہ ہندوستان کی ریاستی دہشت گردی ہے جس کے تحت 8لاکھ فوج ، کالے اور ظالمانہ قوانین کے ذریعے بے لگام اختیارات کے بل پر نہتے کشمیریوں کا قتل عام کرنے میں مصروف ہے۔یہ کانفرنس اسلامی ممالک کی تنظیم (OIC) کے جموں کشمیر پر رابطہ گروپ کے جدہ میں منعقدہ حالیہ اجلاس میں کشمیریوں کے موقف اور حق خودارادیت کے لیے جاری تحریک آزادی کشمیر کی مکمل حمایت کے اعلان ، اقوام متحدہ اور OICکی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دینے ،مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوستانی فوج کی طرف سے روا رکھے جانے والے ریاستی جبراور معصوم کشمیریوں کی ظالمانہ شہادتوں کی مذمت اور انہیں بند کرنے کے مطالبے اور پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کے اقدامات پر اظہار تشکر کرتی ہے ،البتہ تنظیم کے بانی ممبر پاکستان سے مشاورت کیے بغیر اور اس پر جارحیت کے مرتکب اور کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے ہندوستان کو تنظیم کے اجلاس میں بطور معزز مہمان مدعو کرنے اور تنظیم کے مشترکہ اعلامیہ میں کشمیر کا تذکرہ نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کرتی ہے اور اسے اہل کشمیر کے لیے تکلیف دہ اور باعث رنج قرار دیتی ہے اور اپیل کرتی ہے کہ آئندہ اس طرح کے اقدام سے گریز کیا جائے۔کانفرنس تحریک آزادی کشمیر اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت اور جموں وکشمیر میں ہندوستانی حکومت اور افواج کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف وزریوں کی مذمت کرنے پر ترکی ، برطانیہ ، چین ،یورپی یونین اور دیگر ممالک اور تنظیموں کا شکرایہ ادا کرتے ہوئے اپیل کرتی ہے کہ وہ ہندوستان پر دباؤ مزید بڑھائیں اور اپنا اثرو رسوخ استعمال کریں ۔یہ کانفرنس حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ موجودہ صورت حال کے تناظر میں ایک جارحانہ بین الاقوامی سفارتی مہم کا آغاز کیا جائے اور وزیر اعظم قومی قائدین اور ممبران پارلیمنٹ کے وفود کا اہم دارلحکومتوں کے دورہ کا اہتمام کیا جائے اوراسلام آباد میں ایک بین الاقوامی کشمیر کانفرنس کا انعقاد کیا جائے۔کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھیجے جانے والے وفود میں کشمیریوں کو بھرپور نمائندگی دی جائے تا کہ کشمیریوں کا مسئلہ کشمیریوں کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر زیادہ موثر انداز میں پیش کیا جا سکے۔کانفرنس اقوا م عالم بالخصوص عالمی طاقتوں اور اداروں سے اپیل کرتی ہے کہ موجودہ حالات کے تناظر میں مسئلہ کشمیر کی سنگینی کو محسوس کریں اور اس مسئلے کے پر امن حل کے لیے اپنا کردار اوراثر ورسوخ استعمال کریں۔ کانفرنس کی نظر میں مسئلہ کشمیر کا پر امن ، منصفانہ اور دیر پا حل جنوبی ایشیا کے امن ، خوشحالی اوراستحکام کے علاوہ عالمی امن کی بھی ضمانت ہے ۔کانفرنس قائدین تحریک حریت کی استقامت کو سلام اور شہدائے جموں وکشمیر کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے کہ ان شہداء کی ہی قربانیوں کے نتیجے میں تحریک آزادی کشمیر ایک
ناقابل تسخیر قوت بن چکی ہے۔کانفرنس سیز فائر لائن پر ہونے والی بھارتی فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والے سویلین اور افواج پاکستان کے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔کانفرنس کشمیری عوام کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے یقین دلاتی ہے کہ آزادی کی اس جدوجہد میں بیس کیمپ کی حکومت اور عوام ان کی پشت پرہیں اور بھارت کی ہر جارحیت کا مقابلہ کرنے اور تحریک آزادی میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ شانہ بشانہ شریک ہونے کے لیے تیارہیں۔