چناری:جماعت اسلامی آزاد کشمیر گلگت بلتستان کے امیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے کہاہے کہ تاجر برادری اور عام غریب شہری کی فلاح حکومتوں کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں ہے، کسی بھی حکومت نے خواتین کو باختیار اور باوسائل بنانے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا،جماعت اسلامی خواتین کے مسائل ترجیح بنادوں پر حل کرے گی،،عوام اعتماد کریں تو سارے ظالمانہ نظام کو بدل دیں گے،ان خیالات کااظہارانھوں نے چناری انجمن تاجران کے نومنتخب صدر شہزاد گل کی حلف کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر نو منتخب صدر انجمن تاجران شہزاد گل سمیت دیگر قائدین نے خطاب کیا،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے کہاکہ حکومت پاکستان بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کے خاتمے کے بعد ریاست جموں و کشمیر کی وحدت کی بحالی کے لیے آزاد جموں و کشمیر کی حکومت اور اسمبلی کو پوری ریاست کی نمائندہ حکومت اور اسمبلی قرار دیا جائے اور اس مقصد کے لیے حکومت پاکستان اور جملہ متعلقین سے ضروری مشاورت کے ساتھ مطلوبہ آئینی ترامیم اور انتظامی اقدامات کیے جائیں،مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں کا تعین آزاد کشمیر کے حلقہ جات کے ووٹرز کی تعداد کے مطابق کیا جائے، یعنی آزادکشمیر کے ایک حلقے میں ووٹرز کی جتنی کم از کم تعداد پر ایک اسمبلی کی نشست ہوتی ہے، اتنی ہی تعداد مہاجرین کی نشست کے لیے بھی مقرر کی جائے،میں جموں و وادی کی تخصیص ختم کی جائے نیز بلا تخصیص مہاجر و غیر مہاجر جملہ ممبران اسمبلی اور وزراء کے ترقیاتی فنڈز اور تقرریوں تبادلوں کے اختیارات ختم کیے جائیں حریت کانفرنس، متحدہ جہاد کونسل کے لیے نشستیں مختص کی جائیں،مہاجرین کی نشستوں پر انتخابی عمل کو شفاف بنایاجائے،انھوں نے کہاکہ کابینہ کے اراکین، وزراء اور مشیران کی تعداد کو مجموعی تعداد کے 20 فیصد تک محدود کیا جائے سرکاری ملازمتوں میں سکیل B-16 اور اس سے بالا تقرریاں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے اوپن میرٹ پر کی جائیں، تاہم مہاجرین 1989 اور خصوصی (معذور) افراد کے لیے کوٹہ مختص کیا جائے۔ سکیل B-1 تا 16 تک مقامی حلقہ جاتی و ضلعی کوٹہ برقرار رکھا جائینظام زکوۃ و عشر میں شرعی تقاضوں کے مطابق اصلاحات کی جائیں اور زکات و منافع فنڈ کو حکومتی شخصیات، وزراء و ارکان اسمبلی اور دیگر کے علاج معالجے اور شیر سپاٹے پر خرچ کرنے کی بجائے مستحقین کی کفالت اور انہیں اپنے پاوں پر کھڑا کرنے کے قابل بنانے کے لیئے جامع نظام وضع کیا جائے- آزاد کشمیر میں موجود ہائیڈل پوٹینشل سے فائدہ اٹھانے کے لیے SIFC کی طرز پر ''ون ونڈو آپریشن'' کا نظام متعارف کرایا جائے، اور پرائیویٹ سیکٹر و اوورسیز کشمیری کمیونٹی کے تعاون سے جوائنٹ وینچر کے ذریعے بجلی کی پیداوار میں خود کفالت حاصل کی جائے، اضافی بجلی فروخت کر کے ریاستی آمدن میں اضافہ کیا جائے،آزاد کشمیر کو خوراک اور لائیو اسٹاک میں خود کفیل بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جائیں فوری، مفت اور باسہولت انصاف کی فراہمی کے لیے عدالتی نظام میں اصلاحات کی جائیں، عدلیہ میں ججز کی خالی آسامیوں کو پر کیا جائے، اور شریعت اپیلٹ بنچ میں سات سال سے خالی عالم جج کی آسامی پر میرٹ کے مطابق اہل جج کی تقرری کی جائے،انتظامی اصلاحات کے تحت انتظامی مشینری کی ڈاؤن سائزنگ کی جائے- محکمہ جات کو باہم مدغم کرتے ہوئے ان کی تعداد کم کی جائے، پبلک سروس کمیشن کی تکمیل، چیف الیکشن کمشنر اور چیئرمین احتساب بیورو کی تعیناتی شفاف اور میرٹ پر کی جائے،آٹا اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عام آدمی تک منتقل نہیں ہو سکے؛ لہٰذا روٹی، بیکری مصنوعات اور بجلی سے تیار شدہ اشیاء کی ارزاں نرخوں پر فراہمی یقینی بنائی جائے جعلی ادویات، خوردنی اشیاء میں ملاوٹ، ناقص اور مضر صحت اشیائے خوردنی کے سدباب کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں قبضہ مافیا اور تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے، ٹیکس چوری روکی جائے، متروکہ املاک اور خالصہ جات کی ناجائز الاٹمنٹ ختم کی جائے صحت کی معیاری اور مفت سہولیات کے لیے جامع ہیلتھ پالیسی جاری کی جائے اور ہیلتھ کارڈ بحال کیا جائے۔عوامی نمائندوں کی پنشن اور مراعات کا خاتمہ کیا جائے۔آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مابین آئینی، انتظامی اور زمینی روابط مستحکم کیے جائیں۔ دونوں خطوں کی اپنی اسمبلیاں و حکومتیں برقرار رہیں لیکن ایک مشترکہ کونسل اور صدر ہو، اور صدر کی ایک ٹرم آزاد کشمیر جبکہ دوسری ٹرم گلگت بلتستان سے ہو۔ اس مقصد کے لیے آئینی ترامیم کی جائیں۔رٹھوعہ ہریام پل، لیپہ ٹنل، لوہار گلی ٹنل، کامسر کہوڑی ٹنل اور دیگر روڈ انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کی جائے،انھوں نے کہاکہ میرپورمظفرآباد ایکسپریس وے کو CPEC منصوبے میں شامل کرنے کا خیر مقدم کیا جاتا ہے۔ میرپور انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی تعمیر، ڈرائی پورٹ کا قیام، منگلا ڈیم کے نیٹ ہائیڈل پرافٹ اور اپ ریزنگ پراجیکٹ کے متاثرین کے مسائل کا حل کیا جائے۔ بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنایا جائے، مقامی و ضلعی حکومتوں کا قیام عمل میں لایا جائے اور ترقیاتی فنڈز انہی اداروں کے ذریعے استعمال کیے جائیں۔طلبہ یونین کی بحالی اور یونین انتخابات کا انعقاد کیا جائے۔