پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر محترم جناب قاضی حسین احمد صاحب مرحوم رحمتہ اللہ علیہ کا صدقہ جاریہ ہے۔ انہوں نے 1990ء میں پہلی مرتبہ پاکستانی قوم سے اہل کشمیر کے لیے یکجہتی کرنے کی اپیل کی۔جب مقبوضہ کشمیر سے بھارتی مظالم سے ستائے ہوئے ہزاروں نوجوان آزاد کشمیر کے بیس کیمپ مظفرآباد میں وارد ہوئے۔ان کی پاکستان سے بہت توقعات تھیں۔لیکن بدقسمتی سے اس وقت بھی ایک سیاسی کشمکش تھی اور سیاسی عدم استحکام اور بے اعتمادی کی کیفیت تھی۔ان حالات میں اس بات کا خدشہ تھا کہ اگر ان کی توقعات کے مطابق یہاں سے ان کو مدد فراہم نہ کی گئی تو وہ مایوسی کا شکار ہو سکتے ہیں۔اس سے پہلے بھی تاریخ اس بات پر شاید ہے کہ کشمیر میں کئی مرتبہ بڑی انقلابی تحریکیں اٹھیں لیکن یہاں سے کوئی بھرپور سرپرستی نہ ہونے کے باوجود وہ بالاخر پھر کمزور ہو گئیں تو تاریخ کے اس تناظر میں یہ نہایت ضروری تھا کہ اس تحریک کی تقویت کے لیے آنے والے مہمانوں کا پرجوش استقبال بھی ہو اور ان کی ضروریات کا اہتمام اور ان کی بھرپور پشتی بانی بھی ہو۔چنانچہ قاضی صاحب کی اپیل پر اس وقت کی وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ نے اور میاں نواز شریف جو اس وقت پنجاب کے وزیر اعلی تھے۔آئی جے آئی کے مرکزی رہنما ہونے کی حیثیت سے اپوزیشن لیڈر کا کردار بھی ادا کر رہے تھے‘دونوں نے اس یکجہتی کی توثیق کی اور یوں پوری قوم نے بھرپور طور یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ مظفرآباد تشریف لائیں اور ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کے وزیراعظم کو للکارا۔
اسی طرح محترم قاضی حسین احمد صاحب بھی مظفرآباد کے علاوہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے کئی دوسرے شہروں میں بھی پہنچے اور لوگوں کے جذبات گرمائے۔ ایک پرجوش اظہار یکجہتی کا اہتمام ہوا۔اس کے نتیجے میں الحمدللہ ریاست پاکستان اس تحریک کی پشت پر کھڑی ہو گئی اور اس پیغام سے کشمیریوں کے حوصلے بھی بلند ہوئے۔ہندوستان کو بھی پیغام پہنچا کہ کشمیری اور پاکستانی الگ اکائیاں نہیں ہیں‘بلکہ یہ ایک ملت اور قوم ہے۔کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر اہل پاکستان خاموش نہیں رہ سکتے۔اسی طرح بین الاقوامی برادری کو بھی یہ پیغام پہنچانا مقصود تھا کہ پاکستان اللہ کے فضل و کرم سے ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ہے اور جس کشمیر کے حساس مسئلے پر پہلے بھی کئی جنگیں ہو چکی ہیں اشتعال انگیز فضا میں اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو اس کے بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں۔چنانچہ پوری دنیا میں ایک مرتبہ پھر مسئلہ کشمیر کا احیاء ہوا جس کا ذکر شملہ اور تاشقند کے معاہدوں کے بعد تقریباً دنیا کے ہر پلیٹ فارم سے ختم ہو چکا تھا۔محترم قاضی حسین احمد صاحب نے اس کے بعد دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو مدعو کیا اور ہم نے مظفرآباد میں بڑی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا اور ان تحریکوں کے قائدین کی ہم نے تائید حاصل کی۔مختلف ممالک میں جا کر وہ ہمارے سفیربن گئے۔مزید ایک ملک ریاستی اور عوامی سطح پر امت مسلمہ کو اس کاز کے ساتھ وابستہ کرنے کے لیے قاضی حسین احمد صاحب نے ایک قومی پارلیمانی وفد تشکیل دیا جس میں تمام جماعتوں کی نمائندگی موجود تھی۔مجھے بھی اس وفد کا حصہ بننے کی سعادت حاصل ہوئی اور مسلم دنیا کے اہم ممالک کے دورے ہوئے۔ ان دوروں کے دوان حکمرانوں سے ملے‘پارلیمنٹ میں خطابات ہوئے‘میٹنگز ہوئیں‘وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں ہوئیں‘عوامی سطح پر بڑے اجتماعات ہوئے‘اہل دانش سے ملے۔اس کے نتیجے میں پہلی مرتبہ یہ مسئلہ او آئی سی کی سطح پر پاکستان نے اٹھایا اور شملہ معاہدے کے طویل عرصے کے بعد ایک مرتبہ پھر بین الاقوا می پلیٹ فارم پر ہمیں بھرپور تائید ملی۔اس وقت سے لے کر آج تک ہر سال پانچ فروری کے موقع پر پوری پاکستانی قوم اظہار یکجہتی اور تجدید عہد کرتی ہے اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جو کمزوریاں‘کوتاہیاں یا حالات کی وجہ سے گرد پڑ جاتی ہے تو اس اظہاریکجہتی سے تجدید ہوتا ہے اور ایک مرتبہ پھر صف بندی ہوتی ہے۔ریاستی سطح پر بھی اور عوامی سطح پر بھی جس سے کشمیریوں کے حوصلوں کو جلا ملتی ہے۔
اس بار یوم یکجہتی اس انداز سے منایا جا رہا ہے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کے پے درپے اقدامات کے نتیجے میں جموں و کشمیر کا ریاستی تشخص اور اسلامی تشخص تحلیل ہو رہا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں برائے نام حکومت قائم ہے جس کے پاس کوئی اختیارات موجود نہیں۔ابھی تک ہزاروں معصوم لوگ جیلوں میں بند ہیں۔ صف اول کے قائدین حریت جناب شبیر احمد شاہ‘جناب یاسین ملک‘جناب مسرت عالم‘جناب ڈاکٹر عبدالحمید فیاض‘محترمہ آسیہ اندرابی چونتیس حریت پسند بہنوں کے ساتھ کال کوٹھڑیوں کے ڈیتھ سیلز میں قید ہیں۔ آسیہ اندرابی کے شوہر ڈاکٹر قاسم فکتو طویل عرصے سے جیل میں قید ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں نوجوان لاپتہ ہیں۔کال کوٹھڑیوں میں قید ہزاروں کشمیری قیدیوں کا اپنے عزیزوں اور وکلاء سے کوئی رابطہ نہیں جوبے بنیاد الزامات کی بنیاد پر ہندوستان کی دور دراز جیلوں میں قیدہیں جوبدترین انسانی حقوق کی پامالی ہے۔انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والے خرم پرویز بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ ہیں اور الحمدللہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر انہیں اعزاز بھی حاصل ہوا۔انہیں ہندوستان نے دہشت گردی کے مقدمات میں قید کیا ہوا ہے۔ ایک ٹویٹ کرنے پر اور فیس بک پر دو جملے لکھنے پر بھی نوجوانوں کو اٹھایا لیا جاتا ہے‘ آزادانہ صحافت کا تو تصور بھی نہیں ہے۔
ان حالات میں ان کی توقع ہے کہ پاکستان‘عالم اسلام اور بین الاقوامی برادری کشمیریوں کے اس دکھ کو محسوس کرے۔ پچھلے عرصے میں ہندوستان کے اقدامات کے رد عمل کے طور پر حکومت پاکستان یا ریاست پاکستان کی طرف سے مطلوب اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے کشمیریوں اور پاکستان کے درمیان جو ایک محبت اور اخوت کا رشتہ تھا وہ بے اعتمادی کا شکار ہوا۔خاص طور پر جنرل باجوا کی جو حکمت عملی تھی اور بعد میں سینئر صحافیوں نے جو انکشافات کیے اس سے یہ تاثر پیدا ہواکہ مودی نے جو اقدامات کیے اس میں باجوہ صاحب کی تائید حاصل تھی۔اس تحریک میں بے اعتمادی ایک خطرناک امر ہے۔یہ اسی صورت میں ختم ہو سکتی ہے کہ ریاست پاکستان عوامی اورحکومتی سطح پر بھرپور طور پر صف بندی کرے اور جو شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں‘ان کے ازالے کے لیے اقدامات کرے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک ایسا خطرناک کام ہوا ہے کہ یہ ہمارا دشمن اربوں روپے خرچ کر کے بھی بے اعتمادی پیدا نہیں کر سکتا تھا۔کسی سطح پر بھی جنرل باجوہ سے باز پرس ہونی چاہیے کہ اس قومی مسئلے کے حوالے سے کہ جوہمارا ایک قومی موقف تھا اور جس طرح سے ہندوستان نے اس مسئلے کو ہڑپ کر لیا تو ایک ایٹمی پاکستان کیوں تماشائی بنا رہا؟یقینا اس کی تحقیق ہونی چاہیے اور انہیں کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے۔یہ ایک سنگین کوتاہی ہے اس کو غداری سے کم قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔بہرحال اس کے ساتھ ساتھ اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ پالیسی اور حکمت عملی کے اندر حالات کے مطابق تبدیلی لائی جائے اور ہر سطح پر کشمیریوں کی تحریک مزاحمت کو مضبوط کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں کا ادراک بھی ہو‘ ان کا ازالہ بھی ہو اور پھر حالات کے مطابق ایک بھرپور جارحانہ حکمت عملی کا اہتمام کیا جائے۔اس میں سب سے پہلا اور بنیادی نقطہ یہ ہے کہ پاکستان بطور ریاست اس مسئلے کے ایک اہم فریق کی حیثیت سے اپنی حکمت عملی بنائے وہ اس سے لا تعلق نہیں رہ سکتا۔اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے۔جہاں بھارت کی 10 لاکھ سے زیادہ افواج موجود ہیں۔ تمام بنیادی انسانی حقوق معطل اور منسوخ ہیں اور عوام کا جینا دو بھرکر دیا گیا ہے تو ایسی کیفیت میں کشمیریوں کو اقوام متحدہ کا چارٹر یہ حق فراہم کرتا ہے کہ وہ مسلح جہاد‘عوامی تحریک کے ذریعے اور بین الاقوامی سفارتی محاذ پر بھی مزاحمت کریں۔یہ برحق اور مستند جدوجہد ہے۔اس حوالے سے مدد کرنا تمام عالم اسلام اور عالم انسانیت کی ذمہ داری ہے۔خاص کر پاکستان جو اس مسئلے میں ایک فریق ہے جب تک وہ اپنے بیانیے کو درست نہیں کرے گااور دنیا کو نہیں بتائے گا کہ پاکستان نے پر امن طور پر کتنی کوششیں کی ہیں لیکن ہر کوشش کا جواب ہندوستان کی طرف سے ریاستی دہشت گردی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔کشمیریوں نے ہمیشہ مذاکرات کے لیے آمادگی کا اظہار کیا لیکن ان کی پیش کش کو بھی ٹھکرا دیاگیا۔
ان حالات میں واحد آپشن یہی ہے کشمیریوں کی بھرپور طور پر مدد کی جائے اور پاکستان دو ٹوک اعلان کرے کہ کشمیری جس بھی محاذ پر جدوجہد کر رہے ہیں سیاسی‘ عسکری ان کی بھرپور طور پر مدد کرنا ریاست پاکستان کا دینی‘ اخلاقی اور آئینی فریضہ ہے۔اس کو دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔جب تک اس موثر بیانیے کے ساتھ اس تحریک کی موثر پشتیبانی نہیں ہوگی اس وقت تک ہندوستان اسی طرح ایف اے ٹی ایف اور اس طرح کے قوانین کے ذریعے پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کرتا رہے گا۔اس بیانیے کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسی قومی پالیسی جس پر پوری قوم کا اجماع ہو اور جس میں حالات کے مطابق کوئی تبدیلی نہ ہو اس میں آل پارٹیز قومی کشمیر کانفرنس کا وزیراعظم پاکستان انعقاد کریں جو صرف کشمیر کے مسئلے پر ہو اور اس میں ایک لانگ ٹرم حکمت عملی طویل المعیاد حکمت عملی طے کی جائے۔اسی طرح سے امر کی بھی فی الفور ضرورت ہے کہ کشمیر پر حکومت پاکستان ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کرے جس میں ساری صورت حال کو زیر بحث لایا جائے اور پاکستان او آئی سی کا ایک اہم اور رکن ملک ہے۔ہم خیال اور برادر ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرتے ہوئے ہوم ورک کے ساتھ اس کا اہتمام کرے۔اس کانفرنس کے بعد پھر بین الاقوامی سطح پر اپنی مہم مزید تیز تر کی جائے۔پاکستان کو یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ غیر مستقل سلامتی کونسل کا ممبر بن چکا ہے۔آمدہ جولائی میں پاکستان ایک مہینے کے لیے صدر بھی بنے گا۔اس موقع پر سلامتی کونسل میں اس مسئلے کو ایک مرتبہ پھر اٹھایا جائے اور ایک متفقہ قرارداد لانے کی کوشش کی جائے۔جنرل اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے اس میں اس مسئلے کو اٹھایا جائے۔اس کے نتیجے میں کشمیر کے اندر تحریک مزاحمت اور وہاں پر جو خوف اور ڈر کا ماحول ہے وہ ختم ہوگا اور تحریک کو تقویت ملے گی۔
فی الفور ہمیں یہی ہدف رکھنا چاہیے کہ جیلوں میں جو لوگ قید ہیں۔ ان میں قائدین بھی ہیں اور عام لوگ بھی وہ رہا ہوں اوران پر جھوٹے مقدمات ختم ہوں۔شہری آزادیاں بحال ہوں۔اس کے ساتھ ساتھ وہاں پر ایک اس وقت جو مودی حکومت کے جارحانہ اقدامات ہیں۔ان میں اوقاف جو کہ ہمیشہ مسلم معاشرے کا ایک روایت رہی ہے کہ مسلم اوقاف کے ذریعے تعلیم اور اپنے اپنے سماج میں خدمات سے نظام دیتے رہے ہیں۔ اس وقت ان قوانین کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔اس کے نتیجے میں ہمارے دینی ادارے‘مسجدیں‘ مدرسے اور تمام دینی کام داؤ پر لگ چکا ہے۔اس کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے۔اسی طرح اس امرکی بھی ضرورت ہے کہ نہ صرف کشمیر بلکہ ہندوستان کے اندر مودی کے جو اقدامات ہیں۔مسلمانوں کے خلاف اور مسجدیں گرا کر مندر تعمیر کرنا اور مسلمانوں کے لیے جینا دو بھرکرنا‘ اپنی روایات اور اقدار کو تحفظ دینے کے لیے ان سارے قوانین کو تہس نہس کر دینا‘ ہندوتوا ایک ایسی لہر ہے اس کو بنیاد بنا کر پوری مسلم دنیا میں ایک تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔خلیجی ممالک سمیت پوری مسلم دنیا میں را کا ایک نیٹ ورک موجود ہے۔وہاں سے وسائل جمع کر کے انسانون کے گلے کاٹتے ہیں جو مسلم دنیا کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔اس کے تدارک کے لیے اہتمام کیا جانا چاہیے۔3فروری کو جماعت اسلامی پاکستان کے زیر اہتمام اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی اور ایک جاندار اعلامیہ منظور ہوا جس میں ہمہ وقتی فوکل پرسن نائب وزیر خارجہ کے تقرر کا مطالبہ کیا گیا ہے جس کا اہتمام ہونا چاہیے۔
بیس کیمپ اللہ کا بہت بڑا عطیہ ہے بدقسمتی سے ابھی تک اس کی پوری صلاحیت کو ہم بروئے کار نہیں لا سکے۔ اسے ہم نے محض اقتدار کا اکھاڑہ بنا دیا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بیس کے اس حقیقی کردار کو آزاد کشمیر میں بحال کیا جانا چاہیے۔وزیراعظم آزاد کشمیر نے مظفرآباد جماعت کے جلسہ میں اور اسی طرح ایک دواورمواقع پر جہادی کلچر کو فروغ دینے کی بات کی ہے اور دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ ہم کشمیریوں کی جدوجہدلا تعلق نہیں رہ سکتے اور ہم ہر محاذ پر ان کی مدد کرنے کے پابند ہیں۔
یہ محض بیان نہیں ہونا چاہیے بلکہ حکومت پاکستان اور آزاد کشمیر کی طرف سے اس پر عملی اقدامات ہونا چاہیں۔ اس حوالے سے بیس کیمپ میں لازمی فوجی تربیت نوجوانوں کو فراہم کی جانی چاہیے۔بیس کیمپ کے بجٹ کے اندر تحریک آزادی کشمیر کے لیے رقم مختص ہونی چاہیے۔کشمیر لبریشن سیل جو کہ اسی مقصد کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اس کا ہم نے حلیہ بگاڑ دیا ہے۔اس کی تشکیل جدید کی جائے اور اس کے پلیٹ فارم سے ہی تحریک آزادی کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے ملک کے اندر اور باہر ایک جامع حکمت عملی تشکیل دی جائے۔خاص طور پر کشمیر کے اندر اس وقت طلبہ ہے‘نوجوان ہیں‘ا ان کو نظریاتی اعتبار سے جس طرح سے گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس کے تدارک کے لیے جامع حکمت عملی تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ایک نظریاتی ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ تحریک آزادی کشمیر اور تحریک پاکستان اس کا جو پورا پس منظر ہے وہ تعلیمی اداروں کے اندر نصابی اور غیر نصابی سرگرمی کا حصہ ہو۔مہاجرین جو اس تحریک کا ایک بڑا ہر اول دستہ بھی ہیں ان کے مسائل کو حل کیا جانا چاہیے۔انہیں آسودہ رکھا جائے اور اس کے لیے جو بھی وسائل ہوں انہیں فراہم کیا جائیں۔ آزاد کشمیر میں گڈ گورنس‘عدل انصاف اور میرٹ کی بالادستی کا اہتمام ہونا چاہیے۔ریاستی وسائل میں اضافے کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کو جس قدر ممکنہ سہولتیں ہو سکتی ہیں ان کو فراہم کیا جانا چاہیے۔اسی طرح گلگت بلتستان بھی ریاست کا ایک آزاد حصہ ہے اس کو باوسائل بنایا جائے اور دونوں خطوں کو ایک رول ماڈل کے طور پر اس انداز سے پیش کیا جائے جو تحریک آزادی کشمیر کی تقویت کا ذریعہ بنے۔
پاکستان میں جو موجودہ فضا ہے سیاسی انتشار افراتفری کی کیفیت میں کوئی بڑا کام نہیں ہو سکتا۔پاکستان کی قومی قیادت اور ہمارے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اس بحران کو ختم کریں اور پاکستان میں قومی یکجہتی کا ماحول پیدا کریں تاکہ پاکستان ایک حقیقی اسلامی جمہوری اور فلاحی مملکت بن سکے۔ اسی طرح آزاد کشمیر میں رائے شماری کا مشیر بھی مقرر کیا جانا چاہیے تاکہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کشمیریوں کے وہ اعداد و شمار جمع کرکے بین الاقوامی سطح پر diasporaکے اندر ہونے والی سفارتی سرگرمیوں کو منظم و مربوط کرے۔اس طرح کے اقدامات کے نتیجے میں اہل کشمیر کو یہ پیغام جائے گا کہ واقعی آزاد کشمیر کے عوام اور پاکستان کی حکومت کاز کی تقویت کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے۔اس بات پر بالکل کوئی مداہنت نہیں ہونی چاہیے کہ اس تحریک کا جو عسکری پہلو ہے وہ دنیا کی ہر آزادی کی تحریک کا ہے۔ اس میں ایک بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔اس مسئلے میں بھی ہمیں کامیابی اور پیش رفت ہوئی ہے۔ 1947 میں وہ اسی مسلح جہاد کے نتیجے میں ہوئی ہے۔اگر ہندوستان پرامن مذاکرات یا جدوجہد کے راستے‘مسدود کرتا ہے تو واحد یہی ایک آپشن رہ جاتا ہے اور یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی روشنی میں یہ کشمیریوں کا حق ہے اس کو بروئے کار لانا چاہیے۔بہرحال اہل کشمیری پر عزم ہیں کہ حالات جو بھی ہوں وہ اپنی جدوجہدکو ان شاء اللہ جاری رکھیں گے۔اللہ تعالی کی تائید و نصرت کے ساتھ وہ فتح سے ہمکنار ہوں گے۔
افغانستان میں استعماری طاقت شکست کھا چکی ہے۔فلسطین کے اندر غزہ میں نہتے فلسطینیوں نے اپنی جرات ایمانی اور شوق شہادت سے عالمی استعمار کی پشت پناہی میں اسرائیل کے دانت اکٹھے کیے ہیں۔ یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ جو قومیں جذبہ جہاد اور مزاحمت کے جذبے سے سرشار ہو کر اللہ پر توکل کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوتی ہیں تووہ استعمار کو شکست فاش سے دوچار کرتی ہیں۔کشمیر میں شہداء کا مقدس خون ضرور رنگ لائے گا اور ہندوستانی استعمار اپنے انجام کو پہنچے گا۔ان شاء اللہ کشمیر اور پاکستان مل کر ایک عظیم مملکت بنائیں گے اورمسلمانوں اور انسانیت کی طاقت کا مرکز بنیں گے جو دنیا بھر کے مظلوم اور مقہور انسانوں اور خاص طور پر مسلمانوں کو جو جہاں جہاں آزمائش میں ہیں ان کی مدد کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔اللہ تعالی ہمارے حکمرانوں کو‘فیصلہ کرنے والوں کو اور اس سے وابستہ تمام ادارے‘ افراد‘قائدین‘اہل دانش کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو کماحقہ ادا کر سکیں۔