اعلامیہ
جماعتِ اسلامی آزاد جموں و کشمیر و گلگت بلتستان کی طرف سے اجتماع عام میں شرکت کے لیے آنے والے بیرون ممالک کے مندوبین کے اعزاز میں دیے گئے استقبالیہ تقریب میں مشترکہ طور پر اعلامیہ منظور کیاگیا،جس میں لکھا گیاہے کہ کشمیر کاز کے لیے عالمی سطح پر سرگرم اور برسرِ پیکار ہیں۔ اجلاس میں پاکستان، کشمیر اور خطے کی مجموعی صورتِ حال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ شرکاء نے درج ذیل نکات پر مکمل اتفاقِ رائے کا اظہار کیا:معرکہ حق میں پاکستان کی کامیابی شرکاء نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان نے برسوں بعد جاندار، جرات مندانہ اور فیصلہ کن اقدامات کرتے ہوئے خطے میں ہندوستان کو پسپائی اور واضح شکست سے دوچار کیا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان کی قومی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔اجلاس نے زور دیا کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والے نئے سفارتی ماحول کو بھرپور طریقے سے استعمال کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو مزید مؤثر انداز میں اُجاگر کیا جائے۔ کشمیری قیادت سے کہا گیا کہ وہ ہر بین الاقوامی فورم پر یہ واضح کریں کہ مسئلہ کشمیر کا حل ہی خطے اور دنیا کے دیرپا امن و سلامتی کی بنیاد ہے۔شرکاء نے دوٹوک انداز میں کہا کہ مسئلہ کشمیر محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کا ایک انتہائی حساس نیوکلیئر فلیش پوائنٹ ہے، جس کی وجہ سے پورا خطہ ہمہ وقت جنگ کے خطرات سے دوچار رہتا ہے۔کے تاریخی، اصولی اور غیر متزلزل موقف کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور اسے کشمیری عوام کے جذبات و امنگوں کی سچّی ترجمانی قرار دیا۔شرکاء نے عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر سے متعلق اپنی منظور شدہ قراردادوں پر فوری اور مکمل عملدرآمد یقینی بنائے تاکہ کشمیری عوام کو اُن کا حقِ خودارادیت فراہم کیا جا سکے۔مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ شہری آزادیوں، مذہبی حقوق، نقل و حرکت، اور سیاسی سرگرمیوں پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں اجلاس نے مقبوضہ کشمیر میں تمام نظر بند سیاسی قائدین، نوجوانوں اور کارکنان کی بلا تاخیر رہائی کا مطالبہ کیا اور اسے پائیدار امن کے لیے بنیادی شرط قرار دیا۔شرکاء نے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ، غیر قانونی اور جارحانہ اقدامات کی واپسی اور مقبوضہ کشمیر کی آئینی و تاریخی حیثیت کی مکمل بحالی کو خطے میں امن، انصاف اور استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے تجدیدِ عہد کیا کہ پاکستان اور کشمیر کے عوام کے درمیان رشتہ ایمان، اخوت اور جدوجہد ہمیشہ قائم رہے گا، اور جماعتِ اسلامی اس تاریخی تحریکِ آزادی میں ہمیشہ ہراول دستے کا کردار ادا کرتی رہے گی