اسلام آباد:جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرگلگت بلتستان کے امیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے کہاہے کہ جماعت اسلامی بیس کیمپ کو حقیقی بیس کیمپ بنانے کی جدوجہد کررہی ہے،بیس کیمپ کی قیادت اپنے مقاصد کا سامنے رکھتی تو آج بقیہ کشمیربھی آزاد ہ ہوتا اور آزاد کشمیربھی ترقی میں یورپ سے آگے ہوتا،بیس کیمپ کی قیادت نے حقیقی کردار ادا نہیں کیا اورنہ اب کرنے کے لیے تیارہے،بیس کیمپ کو اقتدار کا ریس کیمپ بنادیاگیاہے،کشمیرکی آزادی کے لیے بیس کیمپ اور اسلام آ باد کردار ادکریں گے تو کشمیرآزا دہوجائے گا،ان خیالا ت کااظہارانھوں نے وفود سے گفتگوکرتے ہوئے کیا،انھوں نے کہاکہ مودی کے ظالمانہ اور متعصبانہ اقدامات کے بعد بیس کیمپ کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے مگر یہاں کے اہل اقتدار کے پاس وقت ہی نہیں ہے کہ وہ کشمیرکی آزادی کے لیے کوئی عملی اقدام کریں،پہلے باریاں لگارہے تھے اب مل کر حکومت کے مزلے لوٹ رہے ہیں،عوام اور تحریک آزادی کشمیرکی کسی کوکوئی پرواہ ہی نہیں ہے،انھوں نے کہ ہمارے پاس تحریک آزادی کشمیرکو کامیابی کی منزل سے ہمکنار کرنے کے لیے بیس کیمپ بہت بڑا اثاثہ ہے،انھوں نے کہاکہ دنیا میں شاہد ہی کوئی ایسی مثال ہوکر کسی آزادی کو تحریک کو بیس کیمپ میسرتھا مگر کشمیرکی آزادی کی تحریک کو بیس کیمپ میسر ہے جماعت اسلامی اس بیس کیمپ کو فعال اور بحال کرنے کے لیے نکلی ہے۔