مظفرآباد:جماعت اسلامی آزاد کشمیرگلگت بلتستان کے امیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے کہاکہ ٓازاد کشمیر کی اسمبلی کے یہ ممبران جن کو53کا ٹولہ کہاجاتا ہے حق حکمرانی استعمال کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکاہے،نئے انتخابات ہی بیس کیمپ میں استحکام لاسکتے ہیں،اب کوئی اخلاقی اور سیاسی جواز باقی نہیں رہ جاتا کہ یہ ممبران چوتھی بار وزیراعظم کے خلاف عدم عتماد کرکے نیاوزیراعظم لائیں،اسمبلی توڑ کرنئے انتخابات کرائے جائیں،فریش مینڈیٹ ہی بیس کیمپ کے لیے نیک شگون ہوگا،، آج بیس کیمپ کی پوری قوم اضطراب اور پریشانی کا شکار ہے بڑے دکھ کی بات ہے کہ ہماری اسمبلی جو پانچ سال کے لیے اپنے انتخابی عمل کے بعد بیس کیمپ کے عوام کی مسائل حل اور یہاں کے پلاننگ پراسیس کو بڑھانے کا ذریعہ بنتی ہے ابھی اس کی مدت پانچ سال بھی پوری نہیں ہوئی کہ چوتھی بار وزیراعظم کو تبدیل کرنے کے لیے اسمبلی ممبران پر تول رہے ہیں،مختصر مدت کے لیے نیا نئے وزیراعظم اس لیے لائیں کہ وہ تا حیات سابق وزیراعظم کے طور پر آزاد کشمیر کے خزانے سے مراعات حاصل کرنے والا بن جائے۔ان خیالا ت کااظہارانھوں نے اپنے ایک پیغام میں کیا انھوں نے کہاکہ اس کے علاوہ اس تبدیلی کا کوئی اور مقصد نہیں ہوگا جب آزاد کشمیر اسمبلی حق حکمرانی کھو بیٹھی ہے تو بجا طور پر میرا مطالبہ ہوگا جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کا مطالبہ ہوگا کہ اس اسمبلی کو وزیراعظم توڑ دیں اور حق حکمرانی جو حتمی طورپرآزاد کشمیر کے عوام کا ہے آزاد کشمیر کے عوام کے حق کے حکمرانی کو تسلیم کرتے ہوئے فریش مینڈیٹ لینے کے لیے نمائندگان کے چناؤ کا بندوبست کیا ہے، آزاد کشمیر کے بے روزگار نوجوانوں کو اور ادویات اور علاج کی تلاش میں بے چین مریضوں کو اور آزاد کشمیر کی آبادی کا نصف سے زائد حصہ جو خواتین پر مشتمل ہے ان کی پریشانی کو بھی اگر اطمینان ملے گا تو وہ ایک فریش مینڈیٹ سے ملے گا اور بیس کیمپ کی سیاست کو بھی اگر کوئی اس کو ٹھکانہ ملے گا یا اس کو جڑ ملے گی وہ بھی ایک فریش مینڈیٹ حاصل کرنے کے بعد ملے گا۔ انھوں نے کہا آزاد کشمیر کی سیاست کے اس اکھاڑ پچھاڑ میں آزاد کشمیر کے اندرون کے جتنے بھی طبقات ہیں وہ کم لیکن بلاول ہاؤس، پاکستان کے وزیراعظم ہاؤس یا ایوان صدارت میں بیٹھے لوگ آزاد کشمیر کے عوام کا مینڈیٹ تبدیل کرنے کی پوری منصوبندی کر رہے ہیں جو کسی طورپر قابل قبول نہیں ہے، کشمیری قوم کے لیے یہ بھی کوئی مناسب اور صحت مند رجحان کی گواہی نہیں ہے حالات اور بیس کیمپ اور تحریک ازادی کشمیر کے تقاضے ہمیں ہم سب کو اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے فیصلے آزاد کشمیر کے ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے آزاد کشمیر کی فضاؤں میں بالکل اپنی آزاد مرضی سے کریں تو وہ زیادہ مضبوط اور پائیدار سیاست کو جنم دیں گے لیکن غیر ریاستی جماعتوں کے ایما پر وہ بھی آزاد کشمیر سے باہر سے بیٹھ کر اگر اپ حالات کا تجزیہ کریں گے اور حالات کی تبدیلی کی بنیاد رکھیں گے تو یہ تبدیلیاں اور یہ اقدامات پائیدار نہیں بلکہ خطے کو مزید عدم استحکام کا شکار کریں گے اور آج کی دنیا میں آزاد کشمیر جیسے خطے کو عدم استحکام کی ضرورت نہیں
نئے الیکشن کا اعلان کریں تاکہ آزاد کشمیر کی عوام اپنی بے چینی کو ختم کرتے ہوئے فریش مین ڈیٹ دیتے ہوئے اپنی پسند کے ان نمائندگان کو سامنے لا سکیں جو ان کی محرومیوں کا ازالہ کر سکیں اور گزشتہ سال سے اس سیاسی ٹوپی ڈرامے کا خاتمہ کرتے ہوئے استحکام کی طرف خطے کو لے جا سکیں۔