قطر:جماعت اسلامی آزاد کشمیرگلگت بلتستان کے سابق امیر عبدالرشید ترابی نے کہاکہ ہندوستان کی نفرت انگیز پالیسیاں مسلم وجود کے لیے بڑا خطرہ ہیں،چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالم اسلام کو وقتی ردِعمل کے بجائے اجتماعی بصیرت، فکری ہم آہنگی اور مشترکہ حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا‘ کشمیر جیسے سلگتے ہوئے عالمی تنازعات محض علاقائی مسئلہ نہیں رہے بلکہ اب یہ پوری امتِ مسلمہ اور عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکے ہیں،ان خیالات کااظہارانھوں نے عالم اسلام کی ممتاز علمی و فکری شخصیت، انٹرنیشنل مسلم اسکالرز ایسوسی ایشن کے سربراہ علامہ ڈاکٹر محی الدین علی قرہ داغی سے ان کے مرکز میں ملاقات کے موقع پر گفتگوکرتے ہوئے کیا، اس موقع پر نذر قریشی اور دیگر قائدین بھی موجود تھے، ملاقات کے موقع پر دونوں رہنماؤں نے فلسطین، کشمیر، اراکان (روہنگیا) اور عالم اسلام کے دیگر بحران زدہ خطوں کی صورتحال پر نہایت سنجیدہ، مدلل اور بامقصد گفتگو کی،عبدالرشید ترابی نے مقبوضہ جموں کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں کے خلاف جاری منظم نفرت انگیز پالیسیوں، آئینی جبر، مذہبی امتیاز اور آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی سازشوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔عبدالرشید ترابی نے واضح کیا کہ یہ پالیسیاں نہ صرف مسلم وجود بلکہ کشمیری تشخص، شناخت اور تہذیب کے لیے بھی ایک وجودی خطرہ بنتی جا رہی ہیں کشمیر جیسے سلگتے ہوئے عالمی تنازعات محض علاقائی مسئلہ نہیں رہے بلکہ اب یہ پوری امتِ مسلمہ اور عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالم اسلام کو وقتی ردِعمل کے بجائے اجتماعی بصیرت، فکری ہم آہنگی اور مشترکہ حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا‘۔کشمیر پر علامہ قرہ داغی اور ان کے ادارے کی سابقہ جرات مندانہ حمایت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مزید مؤثر، منظم اور عالمی سطح پر آواز بلند کرنے کی درخواست کی۔ اس موقع پر یہ بھی یاد دہانی کرائی گئی کہ علامہ ڈاکٹر محی الدین علی قرہ داغی اس سے قبل مظفرآباد کا دورہ کرچکے ہیں اور لاہور میں منعقدہ عظیم الشان اجتماعِ عام میں شرکت کے ذریعے اہلِ کشمیر کے ساتھ عملی یکجہتی کا مظاہرہ کرچکے ہیں، جو کشمیری عوام کے لیے حوصلے اور امید کا پیغام تھا۔علامہ ڈاکٹر محی الدین علی قرہ داغی نے گفتگو کرتے ہوئے فلسطین اور کشمیر کو ’پوری انسانیت کا مشترکہ المیہ‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ مسائل محض جغرافیائی نہیں بلکہ اخلاقی اور انسانی ذمہ داری کا تقاضا ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ انٹرنیشنل مسلم اسکالرز ایسوسی ایشن اپنے علمی، فکری اور سفارتی پلیٹ فارم کے ذریعے کشمیر اور فلسطین کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ اس موقع پر انہوں نے دعوتِ دورہ کشمیر کو نہایت شفقت اور اپنائیت کے ساتھ قبول کرتے ہوئے کشمیری عوام کے ساتھ اپنی قلبی وابستگی کا اظہار کیا۔ملاقات میں قدرتی آفات کے مواقع پر قطر کی حکومت، عوام اور فلاحی اداروں کی جانب سے پاکستان اور کشمیر کے لیے فراہم کی جانے والی بے لوث امداد پر دلی تشکر کا اظہار کیا گیا۔ شرکا نے مسلم دنیا کے معاملات میں قطر کے مثبت، متوازن اور انسان دوست کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ قطر کا استحکام اور فعال کردار پوری امتِ مسلمہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔وفد کے رکن نذیر احمد قریشی نے 5 اگست 2019 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال، آبادیاتی تبدیلیوں، سیاسی جمود اور کشمیری شناخت کو درپیش سنگین چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی انہوں نے عالمی برادری کی خاموشی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے مؤثر عالمی دباؤ کی ضرورت پر زور دیا۔ محمد ادریس نے اس اہم اور بروقت ملاقات کے انتظامات میں کلیدی کردار ادا کیا۔