Dr Muhammad Mushtaq Khan

انسانی حقوق اورآزاد یوں پر یقین رکھنے والے 8ار ب انسانوں کی موجودگی میں کشمیریوں اور فلسطینیوں کا قتل عام لمحہ فکریہ ہے:ڈاکٹر محمد مشتاق خان

سدھنوتی:جماعت اسلامی آزاد کشمیرگلگت بلتستان کے امیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے کہاہے کہ انسانی حقوق اورآزاد یوں پر یقین رکھنے والے 8ار ب انسانوں کی موجودگی میں کشمیریوں اور فلسطینیوں کا قتل عام لمحہ فکریہ ہے،ہندوستان اور اسرائیل کشمیراور فلسطین میں جنگی جرائم کے مرتکب ہورہے ہیں،انسانی حقوق کی دھجیاں اڑارہے ہیں،انسانوں کاخو ن پانی  کی طرح بہارہے ہیں،عالمی اور اسلامی برادری ہندوستان اور اسرائیل کے خلاف کاروائی کرے،ان خیالات کااظہارانھوں نے اپنے دورہ سدھنوتی کے دوران میں تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سردار ارشد ندیم ایڈووکیٹ اور دیگر قائدین نے خطاب کیا،تقریبات سے  خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے کہاکہ انسانی حقوق کا عالمی دن  منائے جانے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ہم کرہ ارضی پر بسنے والی آٹھ ارب کی آبادی جو مختلف قومیتوں، مذاہب، طبقات اور ممالک میں منقسم ہے لیکن اس ساری منقسم آبادی کا بنیادی رشتہ یہ ہے کہ یہ سارے بنی نو انسان سے تعلق رکھتے ہیں اقوام متحدہ کے قیام، انسانی حقوق کے چارٹر کے بڑی وضاحت کے اعلان کے بعد 77 برس گزر چکے ہیں لیکن چارٹر میں موجود انسانیت کے حقوق کا تذکرہ  تو موجو دہے مگر دنیا عدل سے محروم ہے ہر جگہ جبر کی کہانی ملے گی ماورائے عدالت گرفتاریاں ملیں گی جوانوں کی جبری گمشدگیاں ملیں گی خواتین کی بے حرمتی کی کہانیاں ملیں گی،انھوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں کشمیراور فلسطین جیسے دیرینے مسائل حل طلب ہیں، اسرائیل اقوام متحدہ کے چارٹر کی کسی بھی شک کی پرواہ کیے بغیر لاکھ فلسطینیو کو شہید کرچکاہے جس میں خواتین اور بچوں کا بڑا تناسب شامل ہے غزہ می سٹرکچر سارے کا سارا برباد کر کے رکھ دیا اور اقوام متحدہ کی پاس کردہ قراردادیں وہ الفاظ سے زیادہ کوئی حیثیت اختیار نہ کر سکیں اسرائیل نے اپنی جارحیت کو کسی بھی مسلمہ اصول کی پرواہ کیے بغیر جاری رکھا ساؤتھ ایشیا میں دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان اور ہندوستان کے وجود میں آنے کے بعد مسئلہ کشمیر ابھی تک حل طلب ہے اقوام متحدہ نے دو کروڑ کشمیریوں کو ان کے مستقبل کی حقیقی حل کے لیے حق خود ارادیت کا جو حق دینے کا وعدہ دیا اس پر قراردادیں پاس کیں، قابض اور قاتل ہندوستان ہر گزرتے ماہ و سال کے ساتھ اپنے قبضے کو مزید مضبوط کیے جا رہا ہے اس وقت کشمیریوں کی جتنی بھی پاپولر لیڈرشپ ہے وہ پابند سلاسل ہے کشمیر کا نام ختم کر دیا گیا ہے اس سے اس کا جھنڈا اس سے اس کا کانسٹیٹیوشن چھین لیا گیا ہے اب کشمیر کی اسلامی شناخت کو ختم کرنے کے پے درپے اقدامات ہو رہے ہیں 6 لاکھ لوگوں نے 1947 سے لے کر اج تک شہادت کی خلت پہن لی ہے اور پانچ اگست 2019 کے بعد تو مودی کو گویا یکطرفہ چھوٹ مل گئی ہے اس نے ہزاروں نوجوانوں کی جبری گمشدگی کا منظر پیش کیا ہے میڈیا مکمل طور پر بلیک اؤٹ کا شکار ہے خواتین کی بے حرمتی روز کی کہانی ہے اور حتی کہ اب حق خود ارادیت جو انسانوں کا اور انسانی تاریخ کا بہت ہی بنیادی اور فنڈامینٹل رائٹ ہے اس کے لیے آواز بلند کرنے والے لوگ اس کا خواب اپنی ذہنوں میں سجانے والے لوگ اس قدر قابل گردن زنی قرار پائے ہیں تو ان کی جائیدادیں بل ڈوز کی جا رہی ہیں باغات ختم اور نابود کیے جا رہے ہیں اور انہیں ظلم کی چکی میں سختی کے ساتھ پیسا جا رہا ہے تاکہ اپنا حق مانگنے والا کوئی کشمیری کبھی بھی اپنے حقوق کے لیے نہ آواز بلند کرے نہ  کرسکے،تعلیمی ادارے بند ہیں  آج کل کی دنیا جو انسانی حقوق کا راگ لاپ رہی ہے کی موجودگی میں کشمیر کو اوپن ایئر جیل کا درجہ دے کر ایک کروڑ 40 لاکھ کی آبادی کو قیدی بنا کر رکھ دیا گیا ہے آج کے دن دنیا کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں کشمیریوں کو حق آزادی کب ملے گا اظہار رائے کی آزادی کا حق استعمال کرنے کا موقع کب ملے گا انہیں اپنی آزاد مرضی کے مطابق تعلیمی نصاب مرتب کرنے  اور تعلیمی درسگاہ بنانے کا حق کب ملے گا ان کی قیادت کو اپنے پارٹی مینیفیسٹو کے مطابق اپنی ٹارگٹ پاپولیشن میں آزادانہ طور پر سفر کرنے کا موقع کم ملے گا تاکہ لوگ پارٹی کے مینیفیسٹو اور منشور کے مطابق ٹارگٹ پاپولیشن میں اپنی بات کر سکیں اپنے نظریے اور نقطہ نظر کو پیش کر سکیں ابتدائی بات کرنے سے لے کر آزادی کا خواب دیکھنے تک کہ سارے حقوق کشمیریوں سے چھیننے کے لیے ہندوستان نے اپنی فسطانیت کو مضبوط کرتے ہوئے اس وقت 9 لاکھ سے زائد اپس قاتل افواج کو مقبوضہ کشمیر میں ڈپلائی کر کے دنیا کا ملٹری ارتقاض کا سب سے بڑا خطہ بنا دیا ہے اقوام متحدہ کے منہ کو چڑھایا جا رہا ہے وقت آگیا ہے یہ اقوام متحدہ اپنی ساکھ کو بحال کرتے ہوئے اپنی جوازیت کو یقینی بناتے ہوئے دو کروڑ کشمیریوں کے مستقبل کے لیے کشمیریوں کو حق خودارادیت دلائے۔انھوں نے کہاکہ او ائی سی اپنا کردار ادا کرے،مظلوم کسی بھی مذہب کا ہو کسی بھی رنگ اور نسل کا ہو کسی بھی خطے کا ہو کہ پوری انسانی آبادی پر یہ قرض ہے ظالم کے مقابلے میں مظلوم کی حق کی بازیابی کے لیے اس کا ساتھ دیا جائے آج کی مہذب دنیا انسانیت کو پکار رہی ہے ان سارے اداروں کو یہ پکار رہی ہے کہ اپ کی موجودگی میں ظلم کا راج ختم ہو اور مظلومیت کی کہانی ختم ہو جانی چاہیے سارے انسان برابری کی بنیاد پر اس دنیا میں جینے کا حق حاصل کریں اسلاموفوبیا زیاد دیر نہیں چل سکتا،کشمیریوں کو حق خودارادیت کے حصول کی ضمانت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے دے رکھی ہے اس کے حصول کے لیے ہم نے بلاشبہ چھ لاکھ لوگوں کی قربانی دی ہے ہم دو کروڑ کے دو کروڑ کشمیری شہید ہو جائیں لیکن ہم ٓازادی کی صبح اور اپنا بنیادی حق کے خود ارادیت حاصل کیے بغیر آرام سے نہیں بیٹھیں گے،آج کے دن ہم دنیا سے اپیل کرتے ہیں جتنے بھی مقید کشمیری رہنما ہیں ان کی رہائی کا بندوبست کیا جائے نوجوانوں پر ناروا جبرجو ہندوستان نے جاری رکھا ہوا ہے ختم کیاجائے۔کشمیریوں کی آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کے لیے جس طرح ہندوستان کے کونوں کدروں سے غیر کشمیریوں کو کشمیر میں لا کر حق خود ارادیت کے ووٹ کو کم کرنے کے لیے اور ہندوستان کے حق میں تناسب کو بگاڑنے کے لیے انہیں کشمیر کی زمینوں کا مالک بنایا جا رہا ہے دومیسائل دے کر سٹیٹ سبجیکٹ دے کر ہندوستان مسلم آبادی کو غیر مسلم آبادی میں بدلنے کی سازش کررہاہے دنیا اس کو نوٹس لے۔

 

مرکزی دفتر

رابطہ دفتر