Muhammad Ghalib

ہندوستان کی ڈاکٹر غلام نبی فائی کی اراضی ضبطی بدترین انتقامی کارروائی اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے،محمد غالب

 برمنگھم:تحریکِ کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب اور تحریکِ کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی نے قابض بھارتی حکام کی جانب سے امریکہ میں مقیم ممتاز کشمیری رہنما، دانشور اور انسانی حقوق کے علمبردار ڈاکٹر غلام نبی فائی کی اراضی ضبط کیے جانے کے اقدام کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔تحریکِ کشمیر کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ مذمتی بیان میں کہا کہ ڈاکٹر غلام نبی فائی کے خلاف یہ اقدام کسی قانونی تقاضے کے تحت نہیں بلکہ کھلی سیاسی انتقام پسندی کا مظہر ہے، جو بھارتی حکومت کی اُس منظم اور جابرانہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی عالمی سطح پر مؤثر وکالت کرنے والی آوازوں کو دبانا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کشمیری قیادت، کارکنوں اور دانشوروں کو مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے نشانہ بنا رہی ہے، جن میں جائیدادوں کی ضبطی، سیاسی انتقام اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں شامل ہیں، تاہم ایسے اوچھے اور غیر جمہوری اقدامات سے کشمیریوں کی جدوجہد کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔انھوں نے کہا گیا کہ ڈاکٹر غلام نبی فائی کشمیری قوم کے ایک باوقار، اصول پسند اور دلیر فرزند ہیں، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے اقوامِ متحدہ سمیت دیگر بین الاقوامی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو مؤثر، مدلل اور پرامن انداز میں اجاگر کرتے آ رہے ہیں۔ ڈاکٹر فائی نے ہمیشہ جمہوری، آئینی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے، جس کا اعتراف دنیا بھر میں کیا جاتا ہے۔تحریکِ کشمیر کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ اس قسم کے جابرانہ اور غیر منصفانہ اقدامات کشمیری حریت پسند قیادت اور کارکنوں کو ان کے بنیادی حقوق کی جدوجہد سے ہرگز باز نہیں رکھ سکتے، کیونکہ کشمیری عوام اپنی آزادی، وقار اور حقِ خودارادیت کے لیے بے شمار قربانیاں دے چکے ہیں اور آئندہ بھی کسی دباؤ یا ظلم کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔انہوں نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزاد ذرائع ابلاغ سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی حکومت کے اس غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدام کا نوٹس لیں اور کشمیری عوام کے بنیادی انسانی و سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں 

مرکزی دفتر

رابطہ دفتر