raja jahangir khan

اسلامی جمیعت طلبہ کی قربانیاں تاریخ کا روشن باب ہیں، اقامتِ دین کی جدوجہد جاری رہے گی: راجہ جہانگیر خان

جہلم:جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل، سابق معتمدِ عام اسلامی جمیعت طلبہ پاکستان راجہ جہانگیر خان نے کہا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آیا اور اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا نظام اس ملک میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اسلام ہی پاکستان کا مقدر ہے اور ان شاء اللہ یہی نظام غالب آ کر رہے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اسلامی جمیعت طلبہ جہلم کے زیرِ اہتمام منعقدہ احباب ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں امیر جماعت اسلامی ضلع جہلم ڈاکٹر قاسم محمود، اسلامی جمیعت طلبہ شمالی پنجاب کے سیکرٹری امیس عزیز، ناظم اسلامی جمیعت طلبہ جہلم اسد رشید، چوہدری امجد شہباز ایڈووکیٹ اور دیگر معزز رہنماؤں نے بھی خطاب کیا، جبکہ سنیر صحافی راجہ بشیر عثمانی  جماعت اسلامی دینہ کے راہنما فیاض بٹ سمیت  سابقینِ جمیعت اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
راجہ جہانگیر خان نے کہا کہ آج بھی بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی اور اسلامی جمیعت طلبہ ایک زندہ حقیقت ہیں اور جمیعت و جماعت اسلامی کی راہِ حق میں دی گئی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ تحریکِ پاکستان، تحریکِ ختمِ نبوت، بنگلہ دیش نامنظور تحریک سمیت ہر دور میں اسلامی جمیعت طلبہ نے تاریخ ساز قربانیاں دی ہیں اور بے مثال جدوجہد کی ہے۔ آج بھی جمیعت اقامتِ دین کے لیے سرگرمِ عمل ہے اور پاکستان کی سالمیت و استحکام کے لیے اپنے حصے کا کردار ادا کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کی باطل قوتیں اسلامی نظریے کے خلاف سرگرم ہیں، لیکن یہ قوتیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی اور باطل کے تمام مذموم عزائم ناکام و نامراد ہوں گے۔

اس موقع پر امیر جماعت اسلامی ضلع جہلم ڈاکٹر قاسم محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمیعت طلبہ ایسا پلیٹ فارم ہے جو اپنے کارکنان کو بوڑھا نہیں ہونے دیتا بلکہ ان کے جذبوں کو تازگی اور قوت بخشتا ہے۔ احبابِ جمیعت کبھی بھی اپنے طالب علمی کے دور کو فراموش نہیں کر سکتے۔ جمیعت کا نصب العین اور اس کی دعوت ایک عظیم دعوت ہے، جو شہداء کی امانت ہے۔ یہ انہی شہداء کی جمیعت ہے جنہوں نے پاکستان کے تعلیمی اداروں میں سیکولرازم اور سوشلزم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ جمیعت کے کارکنان نے لازوال قربانیاں دی ہیں جو کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔
چوہدری امجد شہباز ایڈووکیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے خلاف ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت دینی حلقوں میں اعتراضات اٹھائے گئے، حالانکہ مولانا مودودیؒ نے ہمیشہ تفرقہ بازی کے بجائے اسلام کے غلبے کے لیے جدوجہد کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمیعت طلبہ فرقہ واریت، گروہ بندی اور لسانیت سے بالاتر ہو کر حق کے غلبے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہے۔
اسلامی جمیعت طلبہ شمالی پنجاب کے سیکرٹری امیس عزیز نے کہا کہ احبابِ جمیعت خوش قسمت ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کا قیمتی دور اسلامی جمیعت طلبہ کے ساتھ گزارا۔ سابقینِ جمیعت کی قربانیوں کے نتیجے میں آج یہ گراں قدر امانت ہمارے پاس موجود ہے۔ اسلامی جمیعت طلبہ ہر آنے والے دن کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور مسلسل پیش قدمی کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دسمبر کا مہینہ اسلامی جمیعت طلبہ کی تاریخ میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اسی مہینے سید مودودیؒ نے پاکستان میں اسلامی جمیعت طلبہ کی بنیاد رکھی۔ ان کا وژن تھا کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لیے منظم جدوجہد کی جائے۔ جمیعت نے راہِ حق میں بے شمار قربانیاں پیش کیں، خصوصاً سانحہ مشرقی پاکستان میں جمیعت کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمیعت طلبہ نے ہر دور میں پاکستان کے دفاع اور سلامتی کے لیے ہمیشہ صفِ اول میں کردار ادا کیا ہے۔ جمیعت تعلیمی اداروں میں نسلِ نو کی سیرت و کردار کی تعمیر اسلامی اصولوں پر کرنے کے لیے ہمہ وقت مصروفِ عمل ہے۔ آج کے مادیت پرست دور میں بھی جمیعت کے کارکنان اپنی دعوت لے کر پاکستان کے طول و عرض میں، گلی گلی، کالجز اور یونیورسٹیوں میں جدوجہد کر رہے ہیں۔

ناظم اسلامی جمیعت طلبہ جہلم اسد رشید  نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان شاء اللہ اسلامی جمیعت طلبہ کی اقامت دین کی  یہ جدوجہد ضرور کامیابی سے ہمکنار ہو گی اور پاکستان  جس مقصد کےلیے معرض وجود میں ایا ہے اس مقصد کی تکمیل اور اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد جاری رہے گی۔

مرکزی دفتر

رابطہ دفتر